ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس نے کہا؛ بی جے پی نے کبھی گاندھی کے’ آدرشوں‘کوتسلیم نہیں کیا،خوف کاماحول پیداکرکے خراج عقیدت پیش نہیں کیاجاسکتا

کانگریس نے کہا؛ بی جے پی نے کبھی گاندھی کے’ آدرشوں‘کوتسلیم نہیں کیا،خوف کاماحول پیداکرکے خراج عقیدت پیش نہیں کیاجاسکتا

Tue, 02 Oct 2018 23:00:03    S.O. News Service

سیواگرام2اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کانگریس ورکنگ کمیٹی نے مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کی جینتی کے موقع پر منگل کو کہا کہ تقسیم، خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کرنے والی مودی حکومت کے خلاف نئی جنگ آزادی شروع کی جائے گی۔اہم اپوزیشن پارٹی کی ٹاپ پالیسی ساز یونٹ سی ڈبلیو سی نے دہلی۔اترپردیش سرحد پر کسانوں پر لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کسانوں پر ’’بربریت اورظلم‘‘کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور پارٹی کسانوں کی جنگ پرزور طریقے سے لڑے گی۔

ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں دوقراردادمنظورکیے گئے۔پہلی قراردادتقسیم، خوف اور تعصب کے خلاف اور دوسری قراردادکسانوں پربربریت کی مذمت کرتے ہوئے منظورکی گئی ہے۔کانگریس کے اہم ترجمان رندیپ سرجیوالا کے مطابق ورکنگ کمیٹی میں منظور تجویز میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے ہمیشہ باپو کے نظریات کے خلاف مسلسل سازش کی ہے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی کہتی ہے کہ آج وہی منافقانہ طاقتیں، اقتدار کی خود غرضی کامیابی کے لیے باپو کے نظریات اپنانے کاڈھونگ رچ رہی ہیں۔ سی ڈبلیوسی نے کہاہے کہ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس کی طرف سے نفرت، تقسیم اور نفرت کا ماحول پیدا کیا گیا تھا اور اسی کی وجہ سے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا المناک قتل ہو۔ لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کانگریس ورکنگ کمیٹی نے کہاکہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ جے جوان جے کسان ایک نعرہ نہیں،بلکہ کانگریس پارٹی کے لیے زندگی کے طریقہ کار کا راستہ ہے۔انہوں نے کہاکہ وقت کا مطالبہ ہے کہ ایک نئی جنگ آزادی کا آغاز سیواگرام سے ہو۔ایک ایسی مودی حکومت کے خلاف جس نے ملک میں بنٹوارے اور تعصب کا ماحول پیداکیاہے، جس کی سیاست کی بنیادخوف وڈرپر ہے، جس کا طریقہ کار پولرائزیشن پر مبنی ہے، جس کی سوچ سب آواز کو دبانے اور ہر مخالفت کا گلا گھونٹنے کی ہے، جس کا کردار ہندوستان کے تنوع کوختم کرکے فرقہ واریت پھیلانے کاہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کا بالواسطہ طور پر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ باپو کے شیشے کو سیاسی تشہیر حاصل کرنے کے لیے تو لے سکتے ہیں، مگر ان کے اصولوں کواپنائے بغیر ان آدرشوں پر عمل نہیں کر سکتے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی اس قراردادکومنظورکرتی ہے کہ کھوکھلے آدرشوں اور ڈبل کردار والے ایسے تمام گروپوں اور افراد کو بے نقاب کریں گے، جنہوں نے کبھی بھی گاندھی جی کے دکھائے گئے حقیقت، رواداری، ہم آہنگی اور عدم تشدد کے ہموار راستے کو نہیں اپنایا۔ورکنگ کمیٹی نے کہاکہ مہاتما گاندھی نے بھارت کے فرقہ وارانہ اور سماجی ہم آہنگی کے لیے اپنی جان قربان کردی۔جب پورے ملک کوباپو کے بھیانک قتل سے چوٹ لگی تھی، اس کے چھ ہفتے سے بھی کم وقت میں وزیراعظم، پنڈت جواہر لال نہرو، کانگریس اور ملک کے سینئر لیڈر اور گاندھی جی کے ساتھی سیواگرام میں دوبارہ جمع ہوئے اورنفرت۔تقسیم کے زہریلے ماحول کے خلاف اور ملک کو گاندھی وادی نظریہ پرچلتے ایک فارمولے میں باندھنے کا اعلان کیا۔


Share: